کراچی میں چڑیل نظر آگئی ہر طرف خوف وہراس کس علاقے میں ہے

عام طور پر قبرستانوں اور انتہائی پرانی عمارتوں کے متعلق مشہور ہوتا ہے کہ ان میں بھوت پریت اور بدروحیں رہتی ہیں تو ایسے مقامات آسیب زدہ کہلانے لگتے ہیں۔جاری ہے۔

اورجہاں انسانوں کو جانے سے ڈرتے ہیں۔لیکن لیور پول برطانیہ میں ایک ایسا ہسپتال بھی واقع ہے جسے آسیب زدہ قرار دیکر یہاں کے مریضوں کا سو سال تک کے لئے ریکارڈ سیل بند کیاجاچکا ہے ۔برطانویوں کو یقین ہے کہ اس ہسپتال پر بدروحوں کا راج ہے۔ 1874 میں یتیم بچوں کی تعلیم و پرورش کے لئے قائم ہونے والی یہ عمارت نیوشیم پارک ہسپتال کے نام سے معروف ہے ۔برطانیہ کی معروف ویب سائٹ ہانٹڈ ہیپنڈ کے مطابق اس ہسپتال میں گزشتہ 138سال سے ایسے واقعات رونما ہوتے آرہے ہیں ۔ہسپتال کی راہ داریوں اور نرسنگ ہومز میں بدروحوں کو دیکھے جانے اور مریضوں سے انکی چھیڑ خانی کے واقعات کے شواہد بھی انکے پاس ہیں۔ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ جب بھی اس ہسپتال کا دورہ کیاجائے تو اسکی بوسیدہ عمارت دیکھتے ہی وحشت ہونے لگتی ہے۔جاری ہے۔

loading...

۔اس کا ایک تہہ خانہ بھی ہے جہاں کوئی بھی جانے سے ڈرتا ہے۔خالی اور ٹوٹی کرسیاں ،سامان سے خالی پرانی فریجز دیکھ کر ہول آتا ہے۔اسکو بوڑھوں اور یتیموں کا ہسپتال کہا جاتا ہے۔خالی عمارت سے ایسی ہولناک آوازیں آتی ہیں، کوئی اچھا بھلا آدمی گھبرا کر بھاگ جاتا ہے۔یہاں ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں اور انکی شہادتیں بھی موجود ہیں ۔پچھلے سال ایک گروپ فوٹوبنانے کے بعد جب اسکو دیکھا گیا تو اس میں ایک بوڑھی بدروح بھی نظر آرہی تھی جبکہ فوٹو کے دوران ایسی کوئی عورت موقع پر موجود نہیں تھی۔۔جاری ہے۔

ویب سائٹ کی تحقیق کے مطابق شروع میں یہاں 321 یتیم بچے اپنی آیاؤں کے ساتھ قیام پذیرتھے اور ان بچوں پر بری طرح تشدد کیا جاتا تھا۔جنگ عظیم اوّل کے بعد یتیم بچوں کی تعداد بڑھ گئی اور پھر جب یہاں پُراسرار واقعات رونما ہوئے تو 1951 میں یتیم خانہ بند کرکے اسکو موجودہ ہسپتال کی شکل دے دی گئی۔تاہم 1996 میں ہسپتال کو خالی کراکے اسکی نئے سرے سے تزئین کے بعد اسکو 1997 میں کھول دیاگیا ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے۔جاری ہے۔

کہ اب تک نئی تزئین کے بعد ہسپتال کے نوٹس بورڈ پر ایسے نوٹس چسپاں کئے نظر آرہے ہیں جن پر 1996 کی تاریخ لکھی ہوتی ہے اور تمام طرح کی کھوج کے باوجود نوٹس لگانے والے کو تلاش نہیں کیا جاسکا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں