پاکستان کی وہ دکان جو لڑکی جاتی ہے اس کی زندگی ہی تباہ ہو جاتی ہے کیا کیا جاتا ہے ایسی شرمناک تصیلات سامنے آگئی

گجرات ویڈیو سکینڈل میں اب تک تین بچیوں کے کیس سامنے آچکے ہیں،گرفتار ملزم سہیل نے اپنی دکان کے اندر خفیہ کیمر لگارکھا تھا اور تصویروں کو فوٹوشاپ کے ذریعے ا یڈٹ کرکے لڑکیوں کو بلیک میل کرتا تھا جبکہ بلیک میلنگ پر نویں جماعت کی طالبہ رمشا نے خود کشی کی کوشش کی تھی.ایک طالبہ کے گھر والے بدنامی کے خوف سے اپنا گاؤں ہی چھوڑ کر چلے گئے.انکوائری افسر اعجاز احمد کے مطابق یہ وقوعہ 3 ماہ قبل کا ہے.پولیس ملزم کے قبضے سے ا ب تک صرف رمشا کی ویڈیو ہی برآمد کرسکی جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں.۔جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ضلع گجرات کے علاقے کنجاہ میں منظر عام پر آنے والے ایک ویڈیو سکینڈل کی وجہ سے خصوصاً طالبات کے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے. دوسری جانب تھانہ کنجاہ میں اس کیس کی ایف آئی آر 17/120 زیر دفعہ 293,386,376 ت پ درج کرکے مرکزی ملزم سہیل طارق کو گرفتار کرلیاگیا. جبکہ اس کا والد عبدالحق اور2بھائی نعمان طارق اور سمیع طارق کی گرفتاری کیلئے پولیس چھاپے ماررہی ہے.نازیبا ویڈیو اور تصاویر بنا کر طالبات کو بلیک میل کرنے کا یہ افسوسناک واقعہ کنجاہ کی جنوب مغربی جانب قریباً12 کلومیٹرکی مسافت پر واقع موضع ’’لنگے‘‘ میں پیش آیا. مقامی ذرائع نے امت کو بتایا کہ ملزم سہیل نے اپنے گاؤں میں ہی جنرل سٹور کھول رکھا تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ موبائل فون میں ایزی لوڈ کا کام بھی کرتا تھا.اس کے علاوہ اپنے موبائل فون میں اس سے گانے وغیرہ بھی اپ لوڈ کراتے تھے. ذرائع کے مطابق ملزم نے دکان کے اندر ایک خفیہ کیمرہ بھی لگا رکھا تھا، جس میں وہ خاص طور پر دکان پر آنے والی طالبات اور خواتین کی تصویریں بناتا تھا۔ بعدازاں وہ فوٹوشاپ کے ذریعے ان تصاویر کو ایڈٹ کرکے انہیں نازیبا تصویر میں بدل دیتا اور پھر اسی کی بنیاد پر طالبات کو بلیک میل کرتا.اسی طرح اگر کوئی اس کے پاس گانا وغیرہ اپ لوڈ کرانے کیلئے موبائل فون لاتا تو وہ اس میں سے ڈیٹا چوری کرکے وہاں موجود تصاویر کی بھی اپنی مرضی سے ایڈیٹنگ کردیتا.قریباً 3 مہینے پہلے اسی گاؤں کے ایک غریب کسان مظہر اقبال کی بیٹی رمشا طاہرہ ایزی لوڈ کرانے کیلئے سہیل کی دکان پر آئی تھی.۔جاری ہے۔

زرائع کے مطابق نویں جماعت کی طالبہ رمشا کو ملزم بہلا پھسلا کر دکان کے اوپر بنے کمرے میں لے گیا اور وہاں اس کے ساتھ صرف زیادتی کا ارتکاب کیا بلکہ اس کی اپنے موبائل پر ویڈیو بھی بنائی، جسے بعد میں ایک یو ایس بی میں محفوظ کرلیا.سہیل کی دکان پر اسی گاؤں کا ایک لڑکا کاشف عرف کاشی بطور ملازم کام کرتا تھا.چند روز قبل مذکورہ یو ایس بی اس لڑکے کے ہتھے چڑھ گئی.اس نے جب یو ایس بی کو کھنگالا تو اس میں سے رمشا کی ویڈیو بھی برآمد ہوئی. کاشف نے اس نازیبا ویڈیو کو اپنے تک رکھنے یا ضائع کرنے کے بجائے اپنے دوستوں کے سامنے پیش کردیا. اس طرح ویڈیو اور اس کے ساتھ جڑی کہانی پورے گاؤں کے لڑکوں میں پھیل گئی.جب اپنی ویڈیو عام ہونے کی خبر رمشا تک پہنچی تو اس نے زہریلی دوائی پی کر خود کشی کرنے کی کوشش کی. رمشا کو تو بروقت طبی امداد دے کر بچالیا، لیکن اس طرح یہ سکینڈل منظر پر آگیا. اس سلسلے میں رمشا کے چچا اور اس مقدمہ کے مدعی افضال احمد نے امت کو بتایا کہ ہماری بچی کے ساتھ بلیک میلنگ کا یہ سلسلہ گزشتہ سات آٹھ ماہ سے چل رہا تھا. ملزم، رمشا کو ویڈیو دکھا کربلیک میل کرتا اور اس سے مختلف ’’فرمائشیں‘‘ کرتا رہتا.یہ صرف ایک شخص کاکام نہیں، بلکہ یہ پورا گروہ ہے، جو اثر و رسوخ والا بھی ہے اور مالی طور پر مضبوط بھی. ان میں اصل قصور وار مرکزی ملزم سہیل کا والد عبدالحق ہے، جسے اپنے لڑکے کے کرتوتوں کا علم تھا، لیکن اس نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور لڑکے کو چھوڑ دئیے رکھی.۔جاری ہے۔

انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ملزم نے دکان میں خفیہ کیمرہ لگارکھا تھا، جس میں دکان پر آنے والوں کی تصویر بنا کر اسے اپنی مرضی سے ایڈ کرلیتا. خاص طور پر سکول کی طالبات اس کا نشانہ ہوتی تھیں.ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میری اطلاع کے مطابق ملزم سہیل کے پاس کم از کم 15 سے 20 ویڈیوز اور 900 تصویریں ہیں.یہ اب پولیس کا کام ہے کہ وہ برآمدگی کرے. ملزم سہیل نے صرف ہماری بچی کو ہی بلیک میل نہیں کیا بلکہ اور بھی ایسے ہی کئی کیس موجود ہیں لیکن لوگ محض اپنی عزت چھپانے کی خاطر خاموش ہیں.اس لئے کوئی سامنے نہیں آرہا. ہماری بچی سمیت اب تک بلیک میلنگ کے تین کیس سامنے آچکے ہیں. ان میں ہمارے قریبی گاؤں اسد اللہ پور کی ایک دسویں جماعت کی طالبہ بھی ہے. اس بچی کے گھر والے بدنامی کے خوف سے اپنا گاؤں ہی چھوڑ کر چلے گئے ہیں.ملزم کی اس حرکت کی وجہ سے سارے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور پورے گاؤں نے ہمیں اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے.علاوہ ازیں ہفتہ کے روز ڈسٹرکٹ پولیس افسر گجرات سے بھی ہماری ملاقات ہوئی.انہوں نے بھی ہمیں یقین دلایا کہ ہمین انصاف ضرور ملے گا.ہماری تو جو بدنامی ہونی تھی، وہ ہوچکی لیکن ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس سارے گروہ کو قانون کے مطابق کڑی سزا ملے، تاکہ یہ آئندہ کسی غریب کی بیٹی کے ساتھ ایسا ظلم کرنے کی جرأت نہ کرسکیں.۔جاری ہے۔

اس کیس کے انکوائری افسر سب انسپکٹر اعجاز احمدن ے اس سلسلے میں امت کو بتایا کہ پولیس نے اب تک صرف ایک ہی ویڈیو برآمد کی ہے اور وہ ویڈیو ملزم سہیل نے خود اپنے موبائل کے ذریعے بنائی تھی.اس کے علاوہ اس نے دکان میں سی سی ٹی وی کیمرہ بھی لگارکھا تھا ہم یہ سب چیزیں اٹھا کر لے آئے ہیں.انہیں چیک کرنے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اس طرح کا مزید قابل گرفت مواد کتنا برآمد ہوتا ہے لیکن اب تک کی تفتیش سے یہی معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ نہیں کی تھی.ملزم کی عمر 24 سال اور متاثرہ لڑکی کی عمر 18 سال ہے. ایک سوال کے جواب میں انکوائری افسر کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم سہیل کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ دیگر تینوں ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں.اس سلسلے میں ڈاکٹر عافیہ موومنٹ کے کوآرڈینیٹر عزیز الرحمان مجاہد کا کہنا تھا کہ اس طرح کے عناصر کسی بھی رعایت اور نرمی کے مستحق نہیں.اس سے پہلے کھاریاں اور لالہ موسیٰ میں بھی کچھ عرصہ قبل ایسے کیسز سامنے آچکے ہیں ہم سمجھتے ہیں اس طرح کے سماجی ناسوروں کو کڑی سزا ملنی چاہیے.

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں