دہشتگردوں نے مجھے کہا تھا کہ اللہ اکبر کہنا ہے اور بم چلانا ہے میں نے انکار کیا تو داعش ،میں شامل پو نیوالی پاکستانی لڑکی نے ہوش اڑا دینے والی بات بتا دی

لاہور میں خود کش حملہ کرنے سے قبل گرفتار کی گئی میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتی تھی جس کی وجہ سے دہشتگردوں کے چنگل میں پھنس گئی۔ میرے ذہن میں خلافت اور ہجرت کا ایک تصور موجود تھا۔ دہشتگردوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ مجھے کچھ ویب سائٹس میسج کئے گئے اور دینی باتیں بتائی گئیں، دہشتگرد مجھے خود کش حملہ کیلئے مجبور کرتے رہے، وہ کہتے تھے کہ اللہ اکبر کا نعرہ لگانا ہے اور بم چلانا ہے لیکن میں ان سے کہا کہ میں یہ نہیں کروں گی۔ جب میں نے انکار کیا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امیر کی اطاعت لازمی ہوتی ہے، ان کی جانب سے مجھے صرف خود کش جیکٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کو کیسے کھولنا ہے۔ دہشتگردوں نے مجھے قید کیا ہوا تھا اور میں مجبور تھی، میں نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن مجھے موقع نہیں مل سکا۔ کبھی خلافت کی سرزمین پر گئی نہ میرے پاس کوئی پاسپورٹ ہے لیکن ابڈاکٹر بنے کا مشن پورا کروں گی۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور میں دہشتگردوں کے ساتھ پکڑی جانے والی حیدرآباد کی رہائشی نورین لغاری نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر اسلام کی آڑ لے کر دہشتگرد اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں وقتی طور پر ہجرت کرنا چاہتی تھی۔جاری ہے ۔

loading...

لیکن کوئی حملہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کرتی تھی جس پر کچھ پیجز دیکھے جو مجھے بہت اچھے لگے، ان کی وجہ سے میرا ذہن اسلامی خلافت کی طرف مائل ہوا۔ میرے ذہن میں خلافت اور ہجرت کا ایک تصور موجود تھا۔ دہشتگردوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ مجھے کچھ ویب سائٹس میسج کئے گئے اور دینی باتیں بتائی گئیں۔ بعض تنظیموں نے مجھے اعتماد دلایا، دین کے حوالے سے معلومات فراہم کیں تو میں یہ سمجھی کہ شاید یہ وہی لوگ ہیں جو خلاف کیلئے کوشاں ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ہجرت کرنا چاہتی ہوں تو مجھے کہا گیا کہ اس کیلئے آپ کو لاہور آنا ہوگا۔ 10 فروری کو گھر سے کالج کیلئے نکلی لیکن بس کے ذریعے لاہور پہنچ گئی۔ میری اس حوالے سے کالج میں کبھی کسی دوست سے کوئی بات ہوئی نہ کسی نے مجھ سے کوئی بات کی، بس یہ میری ذاتی سوچ تھی۔ دہشتگردوں کی جانب سے مہیا کی جانے والی بیشتر معلومات جہاد سے متعلق ہوتی تھیں۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میں غلط راستے پر تھی، دہشتگرد مجھے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ دہشتگرد مجھ سے خود کش حملہ کروانا چاہتے تھے۔ ۔جاری ہے ۔

میں پاک فوج کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے بچالیا۔ان کاکہنا تھا کہ دہشتگرد مجھے خود کش حملہ کیلئے مجبور کرتے رہے، وہ کہتے تھے کہ اللہ اکبر کا نعرہ لگانا ہے اور بم چلانا ہے لیکن میں ان سے کہا کہ میں یہ نہیں کروں گی۔ جب میں نے انکار کیا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امیر کی اطاعت لازمی ہوتی ہے، ان کی جانب سے مجھے صرف خود کش جیکٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کو کیسے کھولنا ہے۔ دہشتگردوں نے مجھے قید کیا ہوا تھا اور میں مجبور تھی، میں نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن مجھے موقع نہیں مل سکا۔ کبھی خلافت کی سرزمین پر گئی نہ میرے پاس کوئی پاسپورٹ ہے لیکن ابڈاکٹر بنے کا مشن پورا کروں گی۔ ۔جاری ہے ۔

میں اپنے ساتھیوں کو اپنی آپ بیتی بتاﺅں گی اور ان کو بتانے کی کوشش کروں گی کہ ہماری نوجوان نسل کی تباہی کیلئے بہت کچھ کیا جارہا ہے۔ عوام کیلئے پیغام ہے کہ میری مثال دیکھتے ہوئے اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور حکومت کو پیغام ہے کہ وہ ویب سائٹس پر نظر رکھے اور عوام کو گمراہ کرنے والی ویب سائٹس کو بند کرے کیونکہ ان کی وجہ سے ہی میر اذہن تبدیل ہوا تھا۔نورین لغاری کے والد جبار لغاری نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کیلئے دہشتگرد دین کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں، جب یہ چیز سامنے آئی تو میں نے پولیس اور دیگر اداروں سے اپیل کی اور جس طرح آر می چیف، ڈی جی ایم آئی نے میری مدد کی اور میری بیٹی کو بھی بازیاب کروایا ان کا شکر گزار ہوں۔ دہشتگرد غیر ملکی ایجنٹ ہیں، ہماری نوجوان نسل کو ٹارگٹ اور گمراہ کررہے ہیں۔ ۔جاری ہے ۔

آپریشن رد الفساد کی وجہ سے میری بیٹی بازیاب ہوئی ہے۔ آرمی چیف نے ہماری مدد کی جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ آخری لمحہ تک مجھے اس بات کا یقین نہیں آرہا تھا کہ میری بیٹی نے ایسا کیا ہوگا کیونکہ اس نے مجھ سے اور گھر کے دیگر لوگوں سے یہ باتیں چھپائی تھیں۔ میری فیملی ایک نارمل فیملی ہے، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، بیٹا سول انجینئر ہے اور بیٹی نورین ایم بی بی ایس کررہی ہے، دوسری بیٹی چھوٹی ہے۔ شاید ہماری تربیت میں کچھ خامی رہ گئی جس کی وجہ سے نورین سوشل میڈیا کی طرف مائل ہوئی اور یہ سب کچھ ہوا۔ نورین بچپن سے مجھ سے بہت اٹیچ ہے، میں نے کبھی اس کا ایسا کوئی رجحان نہیں دیکھا تھا۔ ۔جاری ہے ۔

بیٹی کے اچانک چلے جانے سے ہمیں بہت دھچکا لگا۔ ہماری فیملی انتہا پسند والا رجحان نہیں رکھتی۔ جب اس طرح کا کچھ اچانک ہوتا ہے تو پھر کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اس واقعہ کے بعد میں نے ذاتی طور پر چیف آف آرمی سٹاف سے درخواست کی جس کا بہت اچھا رسپانس ملا،انہوں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا۔ ہماری فورسز نے بہت جلد ایکشن کیا اور میری بیٹی کو بازیاب کروایا۔ بچوں کو پڑھانا ہی ذمہ داری نہیں بلکہ ان کی بہترین تربیت اور ان کی نگرانی بھی ضروری ہوتی ہے ۔ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے رجحانات کے باعث بھی بچوں کو بہتر انداز میں گائیڈ کرنا اساتذہ کی زمہ داری ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں