نیک دل آدمی گاڑی ہچکوکے کھا رہی تھی اور اس کی گود میں بیٹھے ایک سخت سی چیز اسے تکلیف دے رہی تھی لیکن وہ اس نیک دل آدمی کے خلاف کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی جو اس کی عزت لوٹ رہا تھا

نیک دل آدمی ویگن میں رش تھا مگر حلیمہ کو گھر جانے کی جلدی تھی اس لیے ویگن رکتے ہی وہ اسکی جانب لپکی..کنڈکٹر نے ایک آدمی کو اٹھا کے اس کے لیے جگہ بنائی. حلیمہ نے کپڑوں لتوں کے دو شاپر اندر پھینکے اور پھرتی سے سوار ہو گئی..’لائیں بچی کو میری گود میں بٹھا دیں’..ساتھ بیٹھے ادھیڑ عمر آدمی نے بازو آگے بڑھایا.” نہیں” اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا.. لہجے میں ہلکی سے غراہٹ تھی..آدمی چونکا اور کھسیانا ہو کر پرے دیکھنے لگا..لمحے کے ہزارویں حصے میں اٹھارہ سال پرانے خیالات بجلی بن کر اسکے دماغ میں کوندے.. ماضی کے پردے سے اسی قسم کی بازگشت سنائی دے رہی تھی..کوئی کہہ رہا تھا (جاری ہے) ہ


‘ اماں بچی کو میں گود میں بٹھا لیتا ہوں..کوئی بات نہیں اپنی بیٹی ہے’..اپنا عصا اور کپڑوں کی گٹھڑی سنبھالے ہانپتی ہوئی بڑھیا بڑے تشکر سے اس نیک دل آدمی کو دیکھتی جو بعد میں سارا راستہ حلیمہ کے بدن کو سہلاتا رہتا.اسے گود میں بٹھائے پہلو بدلتا.چپکے سے اس کے گالوں پہ,ہونٹوں پہ بوسے دیتا..سات سالہ حلیمہ گود میں کسی شے کی سختی محسوس کرنے لگتی جو اسے زرہ بھی اچھی نا لگتی تھی.وہ بہت بے چینی محسوس کرتی مگراس بے چینی کی وجہ سمجھنے سے قاصر رہتی. حلیمہ کبھی اپنی نانی کو بھی کچھ نا بتا سکی کیونکہ بتانے کو کچھ تھا ہی نہیں..وہ ننھیال میں رہتی تھی اور نانی کے ساتھ اپنی ماں سے ملنے جاتی تھی….ایسا اکثر ہوتا.. کوئی نا کوئی با اخلاق آدمی اسکی نانی کی مدد کرنے کو تیار رہتا..وہ ضد کرتی کہ نہیں بیٹھنا تو نانی ڈانٹ دیتی . یوں وہ ہونقوں کی طرح سوکھے حلق اور گندے احساسات کے بوجھ تلے دبی,سہمی ,ڈری اپنے سٹاپ آنے کا انتظار کرنے لگتی….ساتھ بیٹھی نانی یا تو خراٹے لے رہی ہوتی یا اسی نیک دل آدمی کو اپنی پر اسرار بیماریوں کی علامات بیان کر رہی ہوتی. (جاری ہے) ہ


نانی تو کچھ عرصے بعد مر گئی مگربچپن کے دور کی وہ بے چینی اب غلاظت اور شرمندگی کے احساسات میں بدلتی جا رہی تھی….اور تین بچوں کی ماں بننے کے باوجود یہ واقعات اب تک ڈراونے خوابوں کی طرح اسے یاد تھے.جب وہ یہ سوچتی کہ اسے کس مقصد کے لیے ..کس طریقے سے اور کس انداز سے استعمال کیا جاتا رہا تو اسے خود سے گھن آنے لگتی..بیٹھے بیٹھے اسکا خون کھولنے لگتا..مگر کہیں کچھ بدلا بھی تھا.. (جاری ہے) ہ


میری ماں اور نانی نے تو مجھے نیک دل آدمیوں سے نہیں بچایا تھا مگر میری بچی کسی نیک دل آدمی کا لقمہ نہیں بنے گی….اس نے جھرجھری لے کر خود سے عہد کیا اور مہوش کا ماتھا چومنے لگی..

 مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں